شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد المقدسی نے دمشق میں صحافیوں سے بات چیت میں شام کے داخلی امور میں سعودی عرب کی مداخلت کی مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے حال ہی میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرارداد کو روس اور چین کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بعد اس ادارے پر سے ان کا اعتماد اٹھ گيا ہے۔ ان کا یہ بیان اقوام متحدہ میں امریکہ ک سفیر سوزان رائس کے اس بیان کی ترجمانی کرتا ہے کہ جس میں انہوں نے شام کے خلاف قرارداد کو روس اور چین کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بعد اس اقدام کو مایوس کن قرار دیا تھا۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاید یہ بھول گئے ہیں کہ امریکہ نے گزشتہ تیس برسوں کے دوران فلسطین اور لبنان کے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات کی مذمت میں پیش کی جانے والی قراردادوں کو بیاسی مرتبہ ویٹو کیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ اس وقت قطر بھی گزشتہ کئی عشروں کے دوران مظلوم فلسطینی قوم پر صیہونی حکومت کے جرائم و مظالم کو نظرانداز کر کے شام کے بعض علاقوں میں بدامنی کو ہوا دے رہے ہیں اور حکومت کے مخالف دہشت گردوں کی کھلم کھلا مالی اور فوجی مدد کر کے بشار اسد کی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور قطر نے عرب لیگ کے رکن ممالک کو شام کے خلاف منصوبے کی منظوری کے لیے اربوں ڈالر کی رشوت دی ہے۔ اسی طرح یہ دونوں ملک ترکی اور لبنان کے راستے دہشت گردوں کو دہشت گردی کی کارروائياں انجام دینے کے لیے شام بھیج رہے ہیں اور یہ اقدام شام کے خلاف سعودی عرب اور قطر کی سازش کا ایک حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک شام میں غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی طرف سے پھیلائی گئی بدامنی پر تو تشویش کا اظہار کر رہے ہیں لیکن وہ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں اور بحرین میں سعودی فورسز کی جانب سے عوام پر وحشیانہ تشدد اور ان کے قتل عام پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس وقت سعودی عرب اور قطر علاقے میں استعمار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور علاقے میں فرقہ وارانہ جنگ کی آگ کے شعلے بھڑکانا چاہتے ہیں تاکہ مشرق وسطی اور خلیج فارس کے علاقے میں صیہونی حکومت کے نفوذ کا راستہ ہموار کر سکیں۔ صیہونی لابی سے وابستہ ان دونوں ملکوں کا مقصد، شام میں بشار اسد کی حکومت کا خاتمہ، تہران دمشق اور بیروت کے باہمی تعلقات کو ختم کرنا اور آخرکار لبنان اور فلسطین کی اسلامی مزاحمت کو ختم کرنا ہے کہ جو امریکہ اور صیہونی حکومت کا اولین مقصد ہے۔ لیکن سعودی عرب سمیت اسلامی ملکوں میں شروع ہونے والی اسلامی بیداری کی لہر سعودی عرب کے ان خوابوں کو بہا کر لے جائے گی۔ آل سعود کی شاہی اور آمرانہ حکومت کی اپنے عوام کے خلاف پرتشدد پالیسیوں اور بحرین اور شام کے داخلی امور میں مداخلت سے علاقے میں آل سعود کی حکومت کے خلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے
پاکستان جاؤ تو بڑے بتلاتے ہیں کہ پاکستان میں کبھی میلاد النبی کے جلسوں پر کبھی فائرنگ کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ مگر جب سے فتنے کی ایک لہر چلی ہے، تو وہ اسکی زد میں ایک ایک کر کے سب آتے جا رہے ہیں۔ اللہ پاکستان کو اس فتنے سے بچائے۔ امین۔
No comments:
Post a Comment